Surah Al-Ahqaf Translate in Urdu

حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو غالب حکمت والا ہے،
اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس (مخلوقات) کو جو ان کے درمیان ہے پیدا نہیں کیا مگر حکمت اور مقررہ مدّت (کے تعیّن) کے ساتھ، اور جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں جس چیز سے ڈرایا گیا اسی سے رُوگردانی کرنے والے ہیں،
آپ فرما دیں کہ مجھے بتاؤ تو کہ جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا چیز تخلیق کی ہے یا (یہ دکھا دو کہ) آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے۔ تم میرے پاس اس (قرآن) سے پہلے کی کوئی کتاب یا (اگلوں کے) علم کا کوئی بقیہ حصہ (جو منقول چلا آرہا ہو ثبوت کے طور پر) پیش کرو اگر تم سچے ہو،
اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے (بتوں) کی عبادت کرتا ہے جو قیامت کے دن تک اسے (سوال کا) جواب نہ دے سکیں اور وہ (بت) ان کی دعاء و عبادت سے (ہی) بے خبر ہیں،
اور جب لوگ (قیامت کے دن) جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبودانِ باطلہ) ان کے دشمن ہوں گے اور (اپنی برات کی خاطر) ان کی عبادت سے ہی منکر ہو جائیں گے،
اور جب ان پر ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں (تو) جو لوگ کفر کر رہے ہیں حق (یعنی قرآن) کے بارے میں، جبکہ وہ ان کے پاس آچکا، کہتے ہیں: یہ کھلا جادو ہے،
کیا وہ لوگ (یہ) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرما دیں: اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کے عذاب) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، اور وہ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں طعنہ زنی کے طور پر کر رہے ہو۔ وہی (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،
آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَزخود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوں،
فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کر دیا ہو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ (بھی پہلی آسمانی کتابوں سے) اس جیسی کتاب (کے اترنے کے ذکر) پر گواہی دے پھر وہ (اس پر) ایمان (بھی) لایا ہو اور تم (اس کے باوجود) غرور کرتے رہے (تو تمہارا انجام کیا ہوگا؟)، بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،
Load More