Surah Sad Translate in Urdu

ص (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، ذکر والے قرآن کی قسم،
بلکہ کافر لوگ (ناحق) حمیّت و تکبّر میں اور (ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت و عداوت میں (مبتلا) ہیں،
ہم نے کتنی ہی امّتوں کو اُن سے پہلے ہلاک کر دیا تو وہ (عذاب کو دیکھ کر) پکارنے لگے حالانکہ اب خلاصی (اور رہائی) کا وقت نہیں رہا تھا،
اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے،
کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے،
اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہے،
ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہے،
کیا ہم سب میں سے اسی پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے؟ بلکہ وہ میرے ذکر کی نسبت شک میں (گرفتار) ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا،
کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہے؟،
یا اُن کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ اِن دونوں کے درمیان ہے اس کی بادشاہت ہے؟ (اگر ہے) تو انہیں چاہئے کہ رسّیاں باندھ کر (آسمان پر) چڑھ جائیں،
Load More